دیانت داری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - راستی، لین دین میں ایمانداری، سچائی۔ "پھول اس طرح چن لے کہ دیانت داری کی انگلیاں نوک خار سے مس نہ ہونے پائیں۔"      ( ١٩٨٤ء، تنقید و تفہیم، ٦٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق 'دیانت' کے ساتھ فارسی مصدر 'داشتن' سے فعل امر 'دار' بطور لاحقۂ فاعل لگا کر 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگائی گئی ہے۔ اردو میں بطور ١٩٧٧ء کو "سائیں احمد علی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - راستی، لین دین میں ایمانداری، سچائی۔ "پھول اس طرح چن لے کہ دیانت داری کی انگلیاں نوک خار سے مس نہ ہونے پائیں۔"      ( ١٩٨٤ء، تنقید و تفہیم، ٦٨ )

جنس: مؤنث